Orhan

Add To collaction

تو جو مل جائے

تو جو مل جائے از انا الیاس قسط نمبر5

کچھ دير بعد کزنز کے جھرمٹ ميں وہ باہر لان ميں آئ جہاں منگنی کے فنکشن کا انتظام کيا گيا تھا۔ اس نے نہ تو لڑکے کو ديکھا تھا نہ اسے کوئ دلچسپی تھی۔ ہارون اچھی شکل صورت کا تھا۔ جس لمجے اسے اسٹيج پر ہارون کے ساتھ بٹھايا گيا اس وقت کسی کی حسرت بھری نظروں نے اسکے سجے سنورے روپ کو دور سے ہی ديکھ کر اسکی بلائيں ليں تھيں۔ اور يہ نظريں خديجہ کے سوا بھلا کس کی ہو سکتی تھيں۔ وہ اسکے پاس جانے کی ہمت نہيں رکھتيں تھيں۔ جب اس نے باپ کی مجبت کو کسی کھاتے ميں نہيں رکھا تھا تو پھر وہ کيسے جاکر اسکے روپ کو پيار اور محبت سے چھوتيں بس وہ نظروں ہی سے اسکے روپ کو دل ميں اتار رہيں تھيں اور اسکی ابدی خوشيوں کی دعا مانگ رہيں تھيں۔ "يار لڑکی تو بڑی فٹ ہے" وہ جو يہ سمجھ رہی تھی کہ اسکی سب حسيات بند ہوچکی ہيں اپنے قريب سے آنے والی ايک مردانہ آواز سن کر چونکی۔ يہ آواز ہارون کے کسی دوست کی تھی جو انکے صوفے کے پيچھے کھڑا تھا۔ اور جھک کر ہارون کے کان مين کہہ رہا تھا مگر آواز اتنی اونچی ضرور تھی کہ وہيبہ باآسانی سن سکتی تھی۔ "فٹ نہيں ٹائٹ ہے" اور يہ اتنے قريب سے آنے والی آواز کسی اور کی نہين ہارون کی تھی۔ وہيبہ کو تو يقين نہيں آيا کہ ايک لڑکا اپنی منگيتر کو اس گھٹيا انداز ميں اپنے دوستوں کے ساتھ ڈسکس کر سکتا ہے۔ "سن آج کی رات بک کرالے" ايک اور گھٹيا آواز آئ۔ "ہاے اے کاش ايسا ہو سکتا مگر ممی بتا رہيں تھيں بڑے دقيانوسی سے لوگ ہيں مگر يقين کر اسکا فگر ديکھ کر تو دل مچل گيا ہے۔۔" ہارون کی گھٹيا گفتگو سن کر اسے لگا وہ اب ڈھے جاۓ گی اور ہوا بھی يہی يکدم اسے اتنی گھٹن محسوس ہوئ کہ وہ چہرہ ہاتھون ميں دئيے رونے لگ گئ۔ خبيب جو تصويريں بنا رہا تھا سب سے پہلے اسی کی نظر اس پر پڑی۔ اسٹيج پر بيٹھنے کے بعد سے اسکے چہرے کے تاثرات جتنی تيزی سے بدل رہے تھے وہ اسے مخمصے ميں ڈال گۓ۔ اوپر سے ہارون کی وہيبہ پر اٹھنے والی نظروں ميں جو ہوس تھی وہ اسکی زيرک نگاہوں سے چھپی نہ رہ سکی۔ اسے وہ بہت عجيب سا بندہ لگا کچھ اسکے دوست بھی عجيب بے ہنگم تھے۔ کانون مين بالياں بے شک سوٹڈ بوٹڈ تھے مگر شکلوں سے سب کے وحشت ٹپک رہی تھی۔ وہ اپنی لڑکيون ميں سے کسی کو بھيجنے کی بجاۓ خود تيزی سے اسٹيج پر آيا۔ "وہيبہ کيا ہوا ہے" وہ تشويش سے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا۔ ہارون نے بڑی ناگواری سے يہ مںظر ديکھا۔ "ميری طبيعت ٹھيک نہيں ہے مجھے يہاں سے لے جائيں" وہ اس وقت جس تکليف سے گزر رہی تھی يہ بھی بھول گئ کہ اپنے دشمن اول کو اپنا حال سنا رہی ہے۔ اسکا متورم چہرہ ديکھ کر اس نے پاس کھڑی اپنی ماں کو آواز دے کر وہيبہ کی جانب متوجہ کيا۔ يکدم ہلچل مچ گئ۔ جلدی جلدی منگنی کی رسم ادا کرے اسے واپس کمرے ميں لے جايا گيا۔ کمرے مين بھی آکر اسکے رونے ميں کمی واقع نہ ہوئ۔سب پوچھ پوچھ کر تھک گۓ کہ آخر ہوا کيا ہے مگر اس نے بھی ہونٹوں پر پڑا قفل نہ توڑا۔ اب وہ مزيد کسی بات کا بتنگز نہيں بنانا چاہتی تھی۔


ابھی اس منگنی کو گزرے چند دن نہين ہوۓ تھے کہ لڑکے والوں کے گھر سے ڈيمانڈ آنے لگ گئ کہ ہارون وہيبہ سے ملنا چاہتا ہے۔ "کيا آپ جانتی نہين ہيں کہ ہمارے يہاں يہ سب پسند نہين کيا جاتا۔ اگر اتنے ہی ايڈوانس تھے وہ لوگ ۔۔تو يہ رشتہ کرنے کی ضرورت ہی کيا تھی۔ معاف کيجئيۓ گا ميں يہ سب نہيں کرسکتی۔" ثمينہ جو اسکے مسلسل انکار پر آج پھر سے اسکا دماغ ٹھکانے لگانے آئيں تھيں۔ اس کے منہ توڑ جواب پر تلملا کر رہ گئيں۔ "ويسے تو بڑی بے باک بنی پھرتی ہو۔۔منگيتر ہے تمہارا کوئ غير نہين اگر ايک دو مرتبہ مل لو گی تو کيا عذاب آجاۓ گا۔۔نخرے ہی ختم نہين ہوتے تمہارے۔ يہ رشتہ بھی ہاتھ سے نکل گيا تو سر پکڑ کر روگی اور ہم سب کو رلاؤ گی" ايک ايک لفظ چباتے وہ بوليں۔ رقيہ آج بھی خاموش تماشائ بنی بيٹھيں تھيں۔ يہ سب انہين خود پسند نہين تھا مگر بيٹی نجانے کيا ٹھانے بيٹھی تھی۔ وہ نہين چاہتی تھيں کہ اسے ناراض کرکے بھيجيں۔ "ميں خوداعتماد ہوں مگر بے باک نہيں اور ان دونوں ميں فرق حيا اور بے حيائ کا ہوتا ہے۔ جہاں تک بات منگنی کی ہے تو يہ اس رشتے کی بنياد پر وہ لڑکا ميرا محرم نہيں بن گيا کہ جس سے ميں کھلے عام پھروں اور اگر اس رشتے کے بدلے ميری حيا ختم ہوتی ہے تو ميں اس رشتے کو سات سلام کرکے اس سے الگ ہونا بہتر سمجھتی ہوں" اپنی بات ختم کرکے وہ کمرے سے باہر چلی گئ۔ "کتنی اکڑ ہے اس ميں آپ سمجھاتی کيوں نہيں" اب ان کا رخ ماں کی جانب تھا۔ "مجھے خوشی ہوئ ہے کہ اس نے انکار کيا ہے۔ ميری يہ تربيت ہی نہيں کہ ميری اولاد حرام رشتے بناۓ۔ جو چيز مجھے نہيں پسند اسکے لئيے ميں اسے کبھی بھی فورس نہين کروں گی اور نہ ہی تم کرو" انہوں نے بات ختم کردی۔ مجھے حيرت ہے کہ تم نے اس بات کا جواب لڑکے کی ماں کو خود ہی کيوں نہيں دے ديا۔ ہم تک پہنچانے کی ضرورت پڑنی ہی نہيں چاہئيے تھی۔" ان کی بات پر وہ جزبز کرگئيں۔ "اماں اب دور بدل گيا ہے يہ سب اتنا معيوب نہين لگتا" انہوں نے اپنی طرف سے بڑا اچھا جواز ڈھونڈا۔ "دور بدلا ہے مذہب نہيں بدل گيا" انکے طنز پر اب کی بار وہ خاموش ہوگئيں۔


لڑکے والوں کی جانب سے يکدم شادی جلدی کرنے کی خواہش نے زور پکڑ ليا اور يوں مہينے بعد کی ڈيٹ فکس ہوگئ۔ وہيبہ کو لگا وہ پاگل ہوجاۓ گی۔ ايسی گھٹيا سوچ رکھنے والے بندے کے ساتھ کيسے عمر بھر رہ پاۓ گی۔ وہ اپنی منگنی والے دن کی ہارون کی بے باک گفتگو بھول نہيں پائ تھی۔ جس انداز سے اس نے رنگ پہناتے اس کا ہاتھ تھاما تھا اسے لگا تھا کسی اژدھے نے اس کا ہاتھ پکڑ ليا ہو۔ عورت خود پر پڑنے والی نگاہ کی نيت کو بھی جان جاتی ہے۔ ہارون کے انداز ميں جو ہوس اور گندگی تھی وہيبہ نے کمرے ميں آکر کتنی ہی مرتبہ اس ہاتھ کو دھويا تھا جسے اس نے انگوٹھی پہنانے کے لئيۓ تھاما تھا۔اسکے لمس ميں ہی عجيب بے باکی اور وحشيانہ پن تھا۔اسے لگا بہت سارا گند اسکے ہاتھ پر لگ گيا ہو جو اتر نہيں پا رہا۔ تو پھر شادی کے بعد وہ خود کو کيسے ايسے شخص کے سپرد کردے گی جس کے ساتھ کی وحشت کو صرف سوچ کر اس کا دم گھٹ رہا تھا۔ وہ اپنی کيفيت کسی کو بتا نہيں پا رہی تھی۔ وہ بہت دنوں بعد سب کے اصرار پر اپنی شادی کی شاپنگ پر جا رہی تھی۔ قسمت سے خديجہ بھی آج انکے ساتھ تھيں۔ گاڑی خبيب چلا رہا تھا ساتھ ميں خديجہ بيٹھی تھين اور پيچھے وہيبہ، نيہا اور فارا تھيں۔ سب خوش گپيوں ميں مگن تھے اور وہ اپنی ہی سوچوں ميں۔ خبيب نے اس رشتے کے بعد سے اسے بہت خاموش ديکھا تھا۔ وجہ وہ جاننے سے قاصر تھا۔ ايک دکان پر اتر کر وہ کام والے کپڑے ديکھ رہيں تھيں۔ "ہبہ بيٹے يہ اچھا لگ رہا ہے نا" خديجہ آج بے حد خوش تھيں کہ اسکی شادی کی شاپنگ کے ليۓ آئ ہيں۔ وہ جو خالی الدماغی کے ساتھ اپنے سامنے پھيلے کپڑے ديکھ رہی تھی۔ ان کی بات پر خشمگيں نظروں سے انکی جانب ديکھا۔ "کتنی مرتبہ آپکو کہوں کہ ميں آپکی کچھ نہين لگتی نہ آپکا مجھ پر کوئ اختيار ہے۔ مت کہا کريں مجھے بيٹا۔ نفرت ہوتی ہے اپنے آپ سے" نجانے کس کس بات کا غصہ وہ ان پر نکال گئ تھی۔ "شٹ اپ۔۔بالکل ہی بات کرنے کی تميز ختم ہوگئ ہے آپ ميں" خبيب اس کا يہ لہجہ برداشت نہيں کر پايا تھا۔ ٹھيک ہے وہ سوتيلی ماں تھيں مگر اس سے بڑی تھيں کچھ تو عزت کرنی بنتی تھی۔ "آپ ميں ہے نا تو ايک کام کريں تميز پر ليکچرز دينے سٹارٹ کرديں بہت کامياب ہوں گے۔" سينے پر ہاتھ باندھے اب اسکی توپوں کا رخ خبيب کی جانب ہوا۔ دکاندار حيران سے يہ تماشا ديکھ رہے تھے۔ يکدم خبيب کی ںظر ان پر پڑی تو سختی سے خود کو کچھ کہنے سے باز رکھتے واپسی کی جانب قدم بڑھاۓ۔ خديجہ بوجھل دل لئۓ گاڑی ميں بيٹھيں۔ نجانے اسکی يہ نفرت انکے لئيۓ کب کم ہونی تھی۔ وہ سمجھنے سے قاصر تھيں۔

   0
0 Comments